{ برائے اصلاح }

اشرف علی — اپریل 19، 2024 1:10 شام
محترم الف عین سر
آداب !
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔
$~$~$~$~$~$~$~$~$
کرو مت اپنی تباہی کا اب گلہ مجھ سے
کہا بھی تھا کہ نہ ہونا کبھی جدا مجھ سے
تمام عمر سزا کاٹنی ہے اب مجھ کو
کہ ہو گئی ہے اک ایسی حسیں خطا مجھ سے
بس ایک بار دُکھایا تھا میں نے اس کا دل
وہ آج تک ہے اسی بات پر خفا مجھ سے
یہ سوچتا ہوں تو اندر سے ٹوٹ جاتا ہوں
کہ تیرا اب کوئی رشتہ نہیں رہا مجھ سے
جب اس کو قطع تعلق ہی مجھ سے کرنا تھا
تو پہلے دن سے ہی رکھتا وہ فاصلہ مجھ سے
عجب نہیں کہ مجھے دیکھ کر وہ گھبرا جائے
خدا کرے کہ نہ ہو اس کا سامنا مجھ سے
تو کیوں چلا گیا ٹھکرا کے وہ مجھے آخر
اگر وہ سچ میں بہت پیار کرتا تھا مجھ سے
تجھے اگر نہیں آنا ہے میرے پاس ، نہ آ
اک التجا ہے مگر ، دور بھی نہ جا مجھ سے
شگفتہ کیوں نہیں رہتا میں آج کل اشرف !
یہ پوچھتا ہے مِرے گھر کا آئنہ مجھ سے
الف عین — اپریل 19، 2024 11:57 شام
محترم الف عین سر
آداب !
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔
$~$~$~$~$~$~$~$~$
کرو مت اپنی تباہی کا اب گلہ مجھ سے
کہا بھی تھا کہ نہ ہونا کبھی جدا مجھ سے
درست
تمام عمر سزا کاٹنی ہے اب مجھ کو
کہ ہو گئی ہے اک ایسی حسیں خطا مجھ سے
حسیں خطا کا ذکر نہیں کیا گیا کہ کون سی خطا ہو گئی ہے "عشق کی خطا" کہیں تو شاید مجھ جیسے ناقص العقل لوگوں کے سمجھ میں بھی آ جائے
ویسے سب ماشاء اللہ عقلمند ہیں تو وضاحت کے بغیر بھی چل سکتا ہے
بس ایک بار دُکھایا تھا میں نے اس کا دل
وہ آج تک ہے اسی بات پر خفا مجھ سے
درست
یہ سوچتا ہوں تو اندر سے ٹوٹ جاتا ہوں
کہ تیرا اب کوئی رشتہ نہیں رہا مجھ سے
ہائے! شعر تو درست ہے
جب اس کو قطع تعلق ہی مجھ سے کرنا تھا
تو پہلے دن سے ہی رکھتا وہ فاصلہ مجھ سے
عجب نہیں کہ مجھے دیکھ کر وہ گھبرا جائے
خدا کرے کہ نہ ہو اس کا سامنا مجھ سے
دونوں درست
تو کیوں چلا گیا ٹھکرا کے وہ مجھے آخر
اگر وہ سچ میں بہت پیار کرتا تھا مجھ سے
کرتا تھا کرت۔تا، اچھا نہیں لگ رہا
تجھے اگر نہیں آنا ہے میرے پاس ، نہ آ
اک التجا ہے مگر ، دور بھی نہ جا مجھ سے
شگفتہ کیوں نہیں رہتا میں آج کل اشرف !
یہ پوچھتا ہے مِرے گھر کا آئنہ مجھ سے
دونوں درست
صریر — اپریل 20، 2024 7:51 صبح
محترم الف عین سر
آداب !
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔
$~$~$~$~$~$~$~$~$
کرو مت اپنی تباہی کا اب گلہ مجھ سے
کہا بھی تھا کہ نہ ہونا کبھی جدا مجھ سے
تمام عمر سزا کاٹنی ہے اب مجھ کو
کہ ہو گئی ہے اک ایسی حسیں خطا مجھ سے
بس ایک بار دُکھایا تھا میں نے اس کا دل
وہ آج تک ہے اسی بات پر خفا مجھ سے
یہ سوچتا ہوں تو اندر سے ٹوٹ جاتا ہوں
کہ تیرا اب کوئی رشتہ نہیں رہا مجھ سے
جب اس کو قطع تعلق ہی مجھ سے کرنا تھا
تو پہلے دن سے ہی رکھتا وہ فاصلہ مجھ سے
عجب نہیں کہ مجھے دیکھ کر وہ گھبرا جائے
خدا کرے کہ نہ ہو اس کا سامنا مجھ سے
تو کیوں چلا گیا ٹھکرا کے وہ مجھے آخر
اگر وہ سچ میں بہت پیار کرتا تھا مجھ سے
تجھے اگر نہیں آنا ہے میرے پاس ، نہ آ
اک التجا ہے مگر ، دور بھی نہ جا مجھ سے
شگفتہ کیوں نہیں رہتا میں آج کل اشرف !
یہ پوچھتا ہے مِرے گھر کا آئنہ مجھ سے
ماشاء اللہ اشرف علی بھائی، اچھے اشعار ہیں! آپ کے کلام کی تکنیکی درستی اور بیان کی صفائی پر رشک آتا ہے۔ اشعار کے تسلسل سے ایک مربوط کہانی بیان ہو رہی ہے، سب خیریت ناں؟ اللّٰہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔
اشرف علی — اپریل 20، 2024 8:24 شام
محترم الف عین سر
آداب !
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔
$~$~$~$~$~$~$~$~$
کرو مت اپنی تباہی کا اب گلہ مجھ سے
کہا بھی تھا کہ نہ ہونا کبھی جدا مجھ سے
تمام عمر سزا کاٹنی ہے اب مجھ کو
کہ ہو گئی ہے اک ایسی حسیں خطا مجھ سے
بس ایک بار دُکھایا تھا میں نے اس کا دل
وہ آج تک ہے اسی بات پر خفا مجھ سے
یہ سوچتا ہوں تو اندر سے ٹوٹ جاتا ہوں
کہ تیرا اب کوئی رشتہ نہیں رہا مجھ سے
جب اس کو قطع تعلق ہی مجھ سے کرنا تھا
تو پہلے دن سے ہی رکھتا وہ فاصلہ مجھ سے
عجب نہیں کہ مجھے دیکھ کر وہ گھبرا جائے
خدا کرے کہ نہ ہو اس کا سامنا مجھ سے
تو کیوں چلا گیا ٹھکرا کے وہ مجھے آخر
اگر وہ سچ میں بہت پیار کرتا تھا مجھ سے
تجھے اگر نہیں آنا ہے میرے پاس ، نہ آ
اک التجا ہے مگر ، دور بھی نہ جا مجھ سے
شگفتہ کیوں نہیں رہتا میں آج کل اشرف !
یہ پوچھتا ہے مِرے گھر کا آئنہ مجھ سے
اظہارِ پسندیدگی کے لیے بہت بہت شکریہ محترم محمد عدنان اکبری نقیبی صاحب، محترم محمد عبدالرؤوف بھائی، محترم صریر بھائی
اللہ تعالیٰ آپ سب کو شاد و سلامت رکھے، آمین۔
اشرف علی — اپریل 20، 2024 8:30 شام
حسیں خطا کا ذکر نہیں کیا گیا کہ کون سی خطا ہو گئی ہے "عشق کی خطا" کہیں تو شاید مجھ جیسے ناقص العقل لوگوں کے سمجھ میں بھی آ جائے
ویسے سب ماشاء اللہ عقلمند ہیں تو وضاحت کے بغیر بھی چل سکتا ہے
معذرت چاہتا ہوں سر
چل سکتا ہے تو رکھ لیتا ہوں، شکریہ
ہائے! شعر تو درست ہے
یہ شعر جب ہو رہا تھا تو رونا آ رہا تھا
کرتا تھا کرت۔تا، اچھا نہیں لگ رہا
اب دیکھیے سر!
تو کیوں چلا گیا ٹھکرا کے وہ مجھے آخر
اگر یہ سچ ہے کہ اس کو بھی عشق تھا مجھ سے
اصلاح و رہنمائی کے لیے بہت بہت شکریہ سر، جزاک اللہ خیر
اللہ تعالیٰ آپ کو اچھی صحت اور لمبی عمر عطا فرمائے، آمین۔
اشرف علی — اپریل 20، 2024 8:44 شام
ماشاء اللہ @اشرف علی بھائی، اچھے اشعار ہیں! آپ کے کلام کی تکنیکی درستی اور بیان کی صفائی پر رشک آتا ہے۔
الحمد للہ
پذیرائی اور حوصلہ افزائی کے لیے بے حد ممنون ہوں بھائی صریر
ویسے اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے
اشعار کے تسلسل سے ایک مربوط کہانی بیان ہو رہی ہے
جی بھائی، جو اندر ہے وہی باہرنکل رہا
الحمد للہ، خیریت سے ہوں، آپ کیسے ہیں اور اتنے دن کہاں تھے بھائی؟
اللّٰہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔
آمین۔ جزاک اللہ خیر
الف عین — اپریل 20، 2024 11:01 شام
تو کیوں چلا گیا ٹھکرا کے وہ مجھے آخر
اگر یہ سچ ہے کہ اس کو بھی عشق تھا مجھ سے
درست ہو گیا
صریر — اپریل 21، 2024 7:42 صبح
جی بھائی، جو اندر ہے وہی باہرنکل رہا
جی، دنیا تو اک کارگہِ رنج و غم ہے، جہاں قدرت اپنے نت نئے دکھوں کے ساتھ ہر روز جلوہ گر ہوتی ہے۔ انتہائی کوشش تو یہی کی جا سکتی ہے ، کہ اس کے ہر ستم کو من و عن قبول کرلیا جائے ،‌ یا پھر دل کو وہ کارخانۂ عجیب بنا لیا جائے ، جہاں ہر طر ح کے غموں کا خام مال پہنچتا ہے، اور خوشی و مسرت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ہماری بھونڈی اردو کے لئے معذرت، ہو جاتا ہے جذبات میں، کیا کریں🥺۔ ہمیں اپنے غم میں شریک سمجھیں، اللّٰہ آپ کی مشکل آسان فرمائے!
صریر — اپریل 21، 2024 7:54 صبح
الحمد للہ، خیریت سے ہوں، آپ کیسے ہیں اور اتنے دن کہاں تھے بھائی؟
الحمدللہ،‌ میں بھی خیریت سے ہوں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، کچھ معاشی تگ ودو میں لگا ہوا تھا۔ اب تو کوشش رہے گی، کہ آنا جانا لگا رہے۔
صابرہ امین — اپریل 21، 2024 8:14 شام
خوبصورت شاعری!! داد قبول کیجیے!
یہ سوچتا ہوں تو اندر سے ٹوٹ جاتا ہوں
کہ تیرا اب کوئی رشتہ نہیں رہا مجھ سے
شگفتہ کیوں نہیں رہتا میں آج کل اشرف !
یہ پوچھتا ہے مِرے گھر کا آئنہ مجھ سے
ہمارا بھی یہی سوال ہے۔۔ اللہ خیر کرے!
اشرف علی — اپریل 22، 2024 8:24 شام
بہت بہت شکریہ سر، جزاک اللہ خیر
اشرف علی — اپریل 22، 2024 8:34 شام
جی، دنیا تو اک کارگہِ رنج و غم ہے، جہاں قدرت اپنے نت نئے دکھوں کے ساتھ ہر روز جلوہ گر ہوتی ہے۔ انتہائی کوشش تو یہی کی جا سکتی ہے ، کہ اس کے ہر ستم کو من و عن قبول کرلیا جائے ،‌ یا پھر دل کو وہ کارخانۂ عجیب بنا لیا جائے ، جہاں ہر طر ح کے غموں کا خام مال پہنچتا ہے، اور خوشی و مسرت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ہماری بھونڈی اردو کے لئے معذرت، ہو جاتا ہے جذبات میں، کیا کریں
بھائی! آپ کی اردو توبہت اچھی ہے ماشاءاللہ
اللّٰہ آپ کی مشکل آسان فرمائے
آمین۔ جزاک اللہ خیر
اب تو کوشش رہے گی، کہ آنا جانا لگا رہے
جی، آتے جاتے رہیے اور کچھ نئی پرانی غزلیں سناتے بھی رہیے
اشرف علی — اپریل 22، 2024 8:41 شام
خوبصورت شاعری!! داد قبول کیجیے
بہت بہت شکریہ، جزاک اللہ خیر
آمین۔ جزاک اللہ خیر
اظہارِ پسندیدگی کے لیے بھی شکر گزار ہوں، اللہ کریم آپ کو خوش رکھے، آمین۔
اشرف علی — اپریل 22، 2024 8:44 شام
اصلاح کے بعد
$~$~$~$~$~$~$~$~$
کرو مت اپنی تباہی کا اب گلہ مجھ سے
کہا بھی تھا کہ نہ ہونا کبھی جدا مجھ سے
تمام عمر سزا کاٹنی ہے اب مجھ کو
کہ ہو گئی ہے اک ایسی حسیں خطا مجھ سے
بس ایک بار دُکھایا تھا میں نے اس کا دل
وہ آج تک ہے اسی بات پر خفا مجھ سے
یہ سوچتا ہوں تو اندر سے ٹوٹ جاتا ہوں
کہ تیرا اب کوئی رشتہ نہیں رہا مجھ سے
جب اس کو قطع تعلق ہی مجھ سے کرنا تھا
تو پہلے دن سے ہی رکھتا وہ فاصلہ مجھ سے
عجب نہیں کہ مجھے دیکھ کر وہ گھبرا جائے
خدا کرے کہ نہ ہو اس کا سامنا مجھ سے
تو کیوں چلا گیا ٹھکرا کے وہ مجھے آخر
اگر یہ سچ ہے کہ اس کو بھی عشق تھا مجھ سے
تجھے اگر نہیں آنا ہے میرے پاس ، نہ آ
اک التجا ہے مگر ، دور بھی نہ جا مجھ سے
شگفتہ کیوں نہیں رہتا میں آج کل اشرف !
یہ پوچھتا ہے مِرے گھر کا آئنہ مجھ سے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.120600/